چین کی شرح نمو 2026 کی پہلی ششماہی میں 4.7 فیصد تک گر گئی۔
چین کی اقتصادی ترقی 2026 کی پہلی ششماہی میں سست ہو کر 4.7 فیصد رہ گئی، جو 2025 میں 5.0 فیصد تھی۔ چین کے قومی ادارۂ شماریات (National Bureau of Statistics of China) کے مطابق ملک کی برائے نام مجموعی قومی پیداوار (Nominal GDP) 69.57 ٹریلین یوآن (تقریباً 10.24 ٹریلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے نے 3.9 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے نے 5.2 فیصد ترقی کی۔
اگرچہ پہلی سہ ماہی میں اقتصادی رفتار 5.0 فیصد پر برقرار رہی، لیکن دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو نمایاں طور پر کم ہو کر 4.3 فیصد رہ گئی۔ اپریل سے جون کے دوران سہ ماہی بنیادوں پر اقتصادی ترقی صرف 0.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ سست روی آزاد ماہرینِ اقتصادیات کی توقعات سے بھی زیادہ رہی۔ ان کا اندازہ تھا کہ شرح نمو میں صرف 0.5 فیصد پوائنٹس کی کمی آئے گی، جبکہ حقیقی کمی 0.7 فیصد پوائنٹس رہی۔ اسی پس منظر میں عالمی بینک نے 2026 کے لیے چین کی سالانہ جی ڈی پی نمو کا تخمینہ کم کر کے 4.4 فیصد کر دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بیرونی طلب میں مزید سست روی بتائی گئی ہے۔
تاہم جون کے تجارتی اعداد و شمار نے خوشگوار حیرت پیدا کی۔ برآمدات اور درآمدات میں سالانہ بنیاد پر بالترتیب 27 فیصد اور 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارکیٹ کی محتاط توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔
چین کی برآمدات نومبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ درآمدات جولائی 2021 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئیں۔ تجزیہ کار اس غیر معمولی اضافے کی وجہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے عالمی فروغ، سیمی کنڈکٹرز کی مسلسل مضبوط طلب، اور ممکنہ جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کے پیشِ نظر غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے محفوظ اور قابلِ اعتماد ذخائر (Inventories) بنانے کی سرگرمیوں کو قرار دیتے ہیں۔